تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم تجھ کو معلوم نہیں... تیری زلفیں، تیری آنکھیں، تیرے عارض، تیرے ہونٹ کیسی اَن جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم تجھ کو معلوم نہیں... ♪ تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائے وہ چھلکتے ہوئے ساغر سی جوانی، وہ بدن جیسے شعلہ سا نگاہوں میں لپک کر رہ جائے تجھ کو معلوم نہیں... ♪ اِتنا مانوس ہے تیرا ہر اک انداز کہ دل تیری ہر بات کا افسانہ بنا لیتا ہے تیرے ترشے ہوئے پیکر سے چرا کر کچھ رنگ اپنے خوابوں کا صنم خانہ سجا لیتا ہے تجھ کو معلوم نہیں... ♪ جانے اِس حسنِ تصور کی حقیقت کیا ہے جانے اِن خوابوں کی قسمت میں سحر ہے کہ نہیں جانے تُو کون ہے، میں نے تجھے سمجھا کیا ہے جانے تجھ کو بھی میرے دل کی خبر ہے کہ نہیں تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم تجھ کو معلوم نہیں...