Kishore Kumar Hits

Zia Mohyeddin - Is Tarah Ki Baat şarkı sözleri

Sanatçı: Zia Mohyeddin

albüm: Zia Mohyeddin Ke Saath Eik Shaam Vol 18


زندگی کی راہوں میں بارہا یہ دیکھا ہے
صرف سن نہیں رکھا، خود بھی آزمایا ہے
تجربوں سے ثابت ہے، جو بھی پڑھتے آئے ہیں
اُس کو ٹھیک پایا ہے
اِس طرح کی باتوں سے
منزلوں سے پہلے ہی ساتھ چھوٹ جاتے ہیں
لوگ روٹھ جاتے ہیں
یہ تمھیں بتا دوں میں
چاہتوں کے رشتے میں پھر گرہ نہیں لگتی
لگ بھی جائے تو اِس میں وہ کشش نہیں ہوتی
ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو ہوتا ہے
تازگی نہیں رہتی
روح کے تعلق میں زندگی نہیں رہتی
بات وہ نہیں بَنتی، دوستی نہیں رہتی
لاکھ بار مل کر بھی دل کبھی نہیں ملتے
ذہن کے جھروکوں میں، یاد کے دریچوں میں
تتلیوں کے رنگوں کے پھول پھر کبھی نہیں کھلتے
اِس لیے میں کہتا ہوں
اِس طرح کی باتوں میں احتیاط کرتے ہیں
اِس طرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں

Поcмотреть все песни артиста

Sanatçının diğer albümleri

Benzer Sanatçılar